کاروار:28؍نومبر (ایس او نیوز)قومی شاہراہ 66کی توسیع کو لے کر جاری کام کے دوران پہاڑوں کے بڑے بڑے پتھروں کو غیر سائنٹفک طریقے سے پھوڑا جارہاہے، جس کے نتیجے میں عوام کو ہور ہی تکالیف کو دیکھتے ہوئے آئی آر بی کمپنی کے خلاف کارروائی کا جن شکتی ویدیکے کےصدر مادھونایک نے مطالبہ کیاہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے ضلع ایس پی ونایک پاٹل سے ملاقات کرتے ہوئے شکایت سونپی۔ قومی شاہراہ کی توسیع کرتے ہوئے فورلین کی تعمیر کا کام شروع ہوکر چار برس ہوگئے ، کام کی ابتداء سے ہی پیشگی اقدامات کئے بغیر غفلت سے کام لیا جارہاہے۔اسی وجہ سے گزشتہ برس کمٹہ تعلقہ کے تنڈرکولی میں پہاڑ کھسکنے سے جانیں تلف ہوئی تھیں۔شکایت میں مانگ کی گئی ہے کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہونا ہے تو اس کے لئے کارروائی کریں۔
اسی مہینے 26نومبر کو مدگا میں آئی آر بی کمپنی کے مزدوروں نے دھماکہ کیا تو ایک بڑا پتھر سڑک پر گرا۔ 27نومبر کو شرور میں ہوئے دھماکہ سے پتھرلوپی گوڈا نامی شخص کے گھر کی چھت پر گرا اور کافی نقصان پہنچاہے گھر میں کوئی نہیں تھا اس لئے جانی نقصان نہیں ہواہے۔ ایسے واقعات کو ضلع انتظامیہ خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہوئے خاطیوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔ لوپی گوڈا کے گھر کی دوبارہ تعمیر کرنے کی شکایت میں مانگ کی گئی ہے۔
دراصل انکولہ تعلقہ کے شرور نامی دیہات میں قومی شاہراہ کی توسیع کے لئے کئے گئے دھماکہ سے ایک بڑا پتھر لوپی گوڈا کے گھر کی چھت پر گرنے سے کافی نقصان پہنچا ہے۔ چھت کا تقریباً حصہ اور دیوار گرگئی ہے۔ دیہات کے 10سے زائد گھروں کی دیواروں میں دراڑیں آئی ہیں۔ آئی آر بی کمپنی کے خلاف کئی مرتبہ شکایت کئے جانے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے ۔ استاد جگدیش نایک کے گھر کوبھی پتھر دھماکوں کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے۔ پے درپے واقعات ہونے کے باوجود ضلع انتظامیہ کی خاموشی پر عوام شکایت کررہے ہیں۔